پگٹ کے بارے میں قادیانوں کا کھلا جھوٹ اور انٹرنیٹ حربے

بگٹ تو جماعت احمدیہ قادیانیہ کے حواس پر ایسا چھایا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیےیہ کہہ ڈالا کہ پگٹ نے اپنا دعویٰ سے توبہ کر لی حالانکہ مرزا غلام احمد نے خود کہا تھا کہ پگٹ توبہ نہیں کرے گا، اور ان کے مرنے سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی ریویو میں آیا کہ پگٹ نے توبہ نہیں کی اس لیے رسوائی ہوئی۔

دراصل مرزا صاحب اور ان کے باوفا مرید مفتی محمد صادق نے اپنی جماعت کو انگریزی میں چھپنے والی پگٹ کے بارے میں موت کی پیشگوئی کے بارے میں بتایا ہی نہیں تھا، اور ایک سو سال تک قادیانی اس کو بھولے رہے، اور ۲۰۰۸ میں ایک امریکی قادیانی امام نے بھی انگریزی میں لکھا کہ پگٹ نے توبہ کر لی تھی، اور یہ کتاب قادیانیوں کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اب چونکہ ہم نے انگلستان میں چھپنے والی انگریزی زبان میں موت کی پیشگوئی دریافت کی تو یہ کیا کرتے؟ اگر توبہ نہیں کی تو پھرتو پگٹ کو مرنا چاہئے تھا۔ ایک سال سوچ و بچار کے بعد قادیانیوں نے اپنے امام کا موقف بدل دیا اور اس کے الہام کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس نے توبہ کی تھی۔ جس جھوٹ کا سہارا لیا وہ یہ تھا کہ پگٹ نے پہلے خدائی کا دعویٰ کیا اور پھر اس کو کم کر کے مسیحائی کا دعویٰ کیا۔

کاش کے مرزا صاحب زندہ ہوتے اور اپنے ماننے والوں کو عیسائیوں کی تثلیث کی ابجد کے بارے میں بتاتے ۔ کہ عیسائیت میں مسیحیت کا دعویٰ دراصل الوہیت کا دعویٰ ہوتا ہے اور نعوذ باللہ خدا کے بیٹے کی آمد ہوتی ہے جو کہ تثلیث کا حصہ ہے۔ کسی دانا عیسائی مدعی مسیحیت نے کبھی خدا باپ یا روح القدس ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور اس کےعین مطابق ہے کہ جب ستمبر ۱۹۰۲ میں پگٹ نے دعویٰ کیا تو آدھے اخباروں نے مسیح کا دعویٰ بتایا اور آدھوں نے الوہیت کا۔چونکہ عیسائیوں کا مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا ظہور ہو گا اوران کے بقول وہ تثلیث الوہیت کے رکن کی حیثیت سے آئیں گے۔

(ویڈیو کے نام کے بارے میں ہماری اطلاع غلط تھی۔ معذرت۔)

ہندی مسیح

اے کے شیخ اور ساتھیوں کی طرف سے دستاویزی فلم کی پیشکش:

ہندی مسیح

یہ انشاءاللہ ےکم اگست ۲۰۱۱ کو جاری ہو گی، اور اس کی تیاری اور دیگر مراحل پر تقریباً ۳۰۰۰۰ پونڈ یا ۵۰۰۰۰ ڈالر خرچ آَئے گا۔

فروری سے عطیہ جات وصول کیے جائیں گے۔

English Website