چودهویں صدى كا مجدد

(از محمد اسلم، ادارہ کا ان آراء سے اتفاق کرنا ضروری نہیں)

تمام دنيا كے قاديانيوں كو چيلنج …
پڑھتا جا شرماتا جا!
سب جھوٹوں کا جھوٹا مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا صاحب كا ایک منہ اور دو زبانيں
مرزا غلام احمد قاديانى كا ایک اور جهوٹ
مرزا غلام احمد قاديانى نے اپنى كتاب “براهين احمدیہ حصہ 5 صفحہ 359” پر لكها ہے (احاديث صحيحہ ميں آيا تها كہ وه مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا) ا
میں مرزا غلام احمد قادیانى كو نبى ماننے والے تمام قاديانيوں كو چيلنج كرتا ہوں كہ وه “احادیث صحيحہ” تو كیا صرف اور صرف ایک حدیث حضرت محمد صلى الله عليه وسلم كى پيش كرديں جس میں ذكر هو كہ “مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا”

…. اگر ایسی كوئى حدیث نہ ہو تو تسليم كرلو كہ مرزا نے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندها ہے ، اور حديث كے مطابق جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندهے اسكا ٹهكانہ جہنم ہے

عقیدۂ ختم نبوت سے آگاہی اورقادیانیوں کے عقائد ونظریات اورسازشوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی کتابوں سے مرزا غلام احمد قاديانى کے150جھوٹ ملاحظہ فرمائيں:
Website: www.slavesofaslave.com
قادیانیو !  کيا مرزا غلام احمد قاديانى کےيہ150جھوٹ ديکھنے کے باوجود بھی آپ اپنى زندگى میں تبدیلی نہيں لائيں گے – کیا آپ کے دلوں پر مہر لگ گئ ہے ؟ اب بھی موقعہ ہے کہ آپ توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
.. تمام قاديانيوں سے مری درخواست ہے كہ وه خود اس بات كى تحقيق كریں اور تحقيق كے بعد توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
اللہ تعالی قادیانیوں کو ھدایت دے! آمین-

حی علی الفلاح

راجہ نعمان احمد صاحب کی طرف سے ایک سبق آموز کہانی

اسکا ذہن عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھااسکی یہ حالت آج سے چند ماہ پہلے تک نہیں تھی وہ ایک سلجھا ہوا طالب علم تھا گھر کا ماحول بھی بہت بہتر تھااور اسکے دوست بھی اچھے تھے اسکی صلاحیتو ں کے پیش نظر اسے ناظم تبلیغ بنایا گیا اور اس دورا ن اس پر وہ حقائق کھلے جو کہ اگر اسے کتب پڑھنے کا خود سے موقع نہ ملتا تو کبھی نہ کھل پاتے ۔یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی چونکہ وہ اپنے ماںباپ اور دادا دادی سے یہی سنتا آیا تھا کہ وہ لوگ ہی سب سے اچھی تعلیم رکھتے ہیں اور وہی اپنے خدا کی پسندیدہ ترین قوم ہیں اور ان کے سوا سب کافر ہیں مگر جب اس کی طرف کی جانے والی تبلیغ کے دوران کچھ “کافروں” نے اس کی تعلیمات پر اسکی کتابوں میں سے ہی ریفرنس نکال کر دلائل بیان کیے تو وہ لاجواب ہو گیا ۔ لیکن ہر انسان کی طرح اس میں موجود تجسس اور کھوجنے کے مادے نے اسے خود سے تحقیق پر ابھارا اُس نے خود مزید کتب پڑھیں اور پھر جب اس نے اپنے گھر میں ٹی وی پر آنے والے سفید پگڑی والے بابا جی کو بھی خلاف ِکتب باتیں بیان کرتے دیکھا تو وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا ، اس نے پہلے اپنے ماں باپ سے اس بارے میں بات کی مگر انھو ں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا پھر اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستو ں سے بات کی کچھ نے اس کی باتوں کی تائید کی اور کچھ نے اسے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اس رویہ نے اسے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔

Read More »

اخراج کی وجوہات تو ذرا دیکھیے

ایک آنکھیں کھول دینے والی فیکس موصول ہوئی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ کن وجوہات پر جماعت سے نکالتی ہے۔ چھہ میں سے تین مسلمانوں کے ساتھ میل جول کی ہیں۔ ایک ملکی قانون کی طرف رجوع کرنے کی ہے۔

اور دستخط خلیفہ عبد العزیز کے ہیں، جن کو کینیڈا کی وکلاء کی تنظیم نے دھوکہ بازی کی وجہ سے وکالت سے دستربردار کر دیا ہوا ہے۔

ملاحظہ ہو: Read More »

شاہی نا ظر

شاہی نا ظر ۔۔۔۔

احمدی آرگ کے لیے یہ میرا پہلا مضمون ہے۔اگر قا رئین اور احمدی آرگ نے چاہا تو انشاءاللہ وہی سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا۔میں اپنے اس مضمون میں ان شخصیات کا تعا رف پیش کرنا چاہوں گا جو خود کو اس جماعت کے ستون قرار دیتے ہیں۔اور جماعت ان کو بزرگان دین اور ناظران کا لقب دے کر معصوم اور سادہ لوح احمدیوں کو ہمیشہ سے اس گدی نشین خلافت کی غلامی میں جکڑے رکھنے کے لیے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔ میرا ان نام نہاد بزرگان سے تعلق کئی دیہایئوں پر محیط ہے۔

میں آ غا ز کرتا ہوں ۔۔جورو کے بھائی ۔۔یعنی مرزا مسرور احمد کے سالے سے۔۔

سید محمود شاہ ۔۔۔ Read More »

مباہلہ کا ایک اور ڈرامہ

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ الیاس ستار سے مباہلہ کر کے مرزا طاہر احمد صاحب چل بسے۔  مگر جماعت احمدیہ کا مباہلہ کا شوق کم نہیں پڑا۔  باتیں تو بہت بناتے ہیں مگر ناپ تول کر قدم رکھتے ہیں۔  اب دیکھیے ذرا فلسطین میں کیا واقعہ گزرا:

فلسطین میں عرب قادیانی شریف عودہ صاحب کی ایک مقامی ٹی وی چینل پر ایک مسلمان عالم سے بحث ہو گئی۔  اس عالم نے ان کی باتوں سے سٹپٹا کر کہہ دیا کہ دیکھ لیں گے۔ قادیانی مربی شمس الدین نے خوب دعا کی درخواستیں کیں اور ہر ملک میں چرچا کیا۔

اب بقول شمس الدین صاحب کے، مرزا مسرور صاحب کی ہدایت پر دو قادیانی لوگ مفتی صاحب کے دفتر پر گئے اور ان سے تحریر کروانا چاہا۔  یہ ہے بات فروری ۲۰۱۱ کی۔  ابھی ایک سال میں چار ماہ باقی تھے۔  مفتی صاحب نے کہا کہ لکھنا کچھ نہیں، مگر آپ گواہ ہیں۔ میں قائم ہوں۔

اب پھر دعاء کا سلسلہ شروع ہوا، مگر کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی، سب خاموشی سے خطوط آتے جاتے رہے، اور وہ ہم تک بھی پہنچتے رہے۔

اب اللہ کی شان دیکھیے کے شریف عودہ کی ایم ٹی اے ۳ ، جو کہ قادیانی جماعت کا عربی چینل ہے ، کی ای میل کا خزانہ ان کے قابو سے نکل گیا اور مارچ اور اپریل ۲۰۱۱ میں عربی چینل اور ان کی خط و کتابت منظر عام پر آنے سے پتہ چل گیا کہ عربی پروگرام ان کے زیادہ تر دھوکہ اور دجل پر مبنی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ لوگ عربی چینل پر وعظ کر رہے تھے کہ کسی بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا ان کے اسلام کے خلاف ہے اور یہ جو عرب بہار ہے یہ ناجائز ہے۔  اس میں بھی قدرت نے ان کو سبکی اٹھانے کا موقعہ دیا اور یہ چیختے رہ گئے مگر مطلق العنان عرب سرداروں کی پگڑیاں گرنے لگیں۔ اور کس کو ذلت کہیں گے؟

اب جون ۲۰۱۱ نکل گیا مگر کچھ نہیں ہوا۔ اور پھر مرزا صاحب خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔  کیا یہ ہوتا ہے مباہلہ؟ Read More »

پانچ مفسرین نے ۳:۱۴۴ میں ‘قد خلت’ سے کیا سمجھا

Our learned brother, Waqar Akbar Cheema, has ignored the request to follow the method of Quranic scholars: find the phrase/word in other places in the Quran, then consult the mufassireen (commentators), and then resort to reasoning from the dictionary. When faced with the established meaning of qad khalat from his chosen translations, he asked for presentation of the conventional meaning in Arabic.

This is the flawed original article and this is the rebuttal in English.

I did not choose this debate as I am far too busy. I privately implored and begged the brother to leave this topic alone as this is a divisive topic and there are very strong arguments on both sides.  Even now, all the brother has to do is accord the meaning to ‘qad khalat’ that great Muslim scholars have given for past 1400 years, and not come up with his own new meaning just out of spite of Qadianism.

Read More »

مرزا مسرور صاحب کی منافقت کی انتہاء

یہ اس شادی کی تصاویر ہیں جس میں چالیس افراد کا اخراج اور مقاطعہ ہوا۔ مگر شاہنواز اور باجوہ خاندان کے افراد کو چھوڑ دیا گیا۔

ہم صرف مرزا مسرور صاحب کی منافقت دکھانا چاہ رہے ہیں ورنہ شادی کی خوشی کے بارے میں ہماری کوئی رائے نہیں۔

Read More »

مرزا صاحب یہودیوں کو نقل کرتے تھے

مرزا غلام احمد صاحب کا ایک حیرت انگریز قول ذریں نظر سے گزرا:

اب قادیانی علماء کہتے کہتے تھک گئے ہیں کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے ادبی نہیں کی۔ یہں ان کے نبی خود کہہ رہے ہیں کہ میں یہودیوں کی گالیاں نقل کیں۔ یاد رہے کہ یہودی تو حضرت مریم کو نعوذ باللہ فاحشہ اور حضرت عیسیٰ کو حرامزادہ کہتے ہیں۔

English Website