Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

(از محمد اسلم، ادارہ کا ان آراء سے اتفاق کرنا ضروری نہیں)

تمام دنيا كے قاديانيوں كو چيلنج …
پڑھتا جا شرماتا جا!
سب جھوٹوں کا جھوٹا مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا صاحب كا ایک منہ اور دو زبانيں
مرزا غلام احمد قاديانى كا ایک اور جهوٹ
مرزا غلام احمد قاديانى نے اپنى كتاب “براهين احمدیہ حصہ 5 صفحہ 359″ پر لكها ہے (احاديث صحيحہ ميں آيا تها كہ وه مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا) ا
میں مرزا غلام احمد قادیانى كو نبى ماننے والے تمام قاديانيوں كو چيلنج كرتا ہوں كہ وه “احادیث صحيحہ” تو كیا صرف اور صرف ایک حدیث حضرت محمد صلى الله عليه وسلم كى پيش كرديں جس میں ذكر هو كہ “مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا”

…. اگر ایسی كوئى حدیث نہ ہو تو تسليم كرلو كہ مرزا نے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندها ہے ، اور حديث كے مطابق جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندهے اسكا ٹهكانہ جہنم ہے

عقیدۂ ختم نبوت سے آگاہی اورقادیانیوں کے عقائد ونظریات اورسازشوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی کتابوں سے مرزا غلام احمد قاديانى کے150جھوٹ ملاحظہ فرمائيں:
Website: www.slavesofaslave.com
قادیانیو !  کيا مرزا غلام احمد قاديانى کےيہ150جھوٹ ديکھنے کے باوجود بھی آپ اپنى زندگى میں تبدیلی نہيں لائيں گے – کیا آپ کے دلوں پر مہر لگ گئ ہے ؟ اب بھی موقعہ ہے کہ آپ توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
.. تمام قاديانيوں سے مری درخواست ہے كہ وه خود اس بات كى تحقيق كریں اور تحقيق كے بعد توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
اللہ تعالی قادیانیوں کو ھدایت دے! آمین-

FacebookEmailPrintShare
 

راجہ نعمان احمد صاحب کی طرف سے ایک سبق آموز کہانی

اسکا ذہن عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھااسکی یہ حالت آج سے چند ماہ پہلے تک نہیں تھی وہ ایک سلجھا ہوا طالب علم تھا گھر کا ماحول بھی بہت بہتر تھااور اسکے دوست بھی اچھے تھے اسکی صلاحیتو ں کے پیش نظر اسے ناظم تبلیغ بنایا گیا اور اس دورا ن اس پر وہ حقائق کھلے جو کہ اگر اسے کتب پڑھنے کا خود سے موقع نہ ملتا تو کبھی نہ کھل پاتے ۔یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی چونکہ وہ اپنے ماںباپ اور دادا دادی سے یہی سنتا آیا تھا کہ وہ لوگ ہی سب سے اچھی تعلیم رکھتے ہیں اور وہی اپنے خدا کی پسندیدہ ترین قوم ہیں اور ان کے سوا سب کافر ہیں مگر جب اس کی طرف کی جانے والی تبلیغ کے دوران کچھ “کافروں” نے اس کی تعلیمات پر اسکی کتابوں میں سے ہی ریفرنس نکال کر دلائل بیان کیے تو وہ لاجواب ہو گیا ۔ لیکن ہر انسان کی طرح اس میں موجود تجسس اور کھوجنے کے مادے نے اسے خود سے تحقیق پر ابھارا اُس نے خود مزید کتب پڑھیں اور پھر جب اس نے اپنے گھر میں ٹی وی پر آنے والے سفید پگڑی والے بابا جی کو بھی خلاف ِکتب باتیں بیان کرتے دیکھا تو وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا ، اس نے پہلے اپنے ماں باپ سے اس بارے میں بات کی مگر انھو ں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا پھر اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستو ں سے بات کی کچھ نے اس کی باتوں کی تائید کی اور کچھ نے اسے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اس رویہ نے اسے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔

Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

یہ خط برطانیہ کے جماعت احمدیہ کے اخبار میں شائع ہوا۔ اصل یہان ملاحظہ کیجیے۔

Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

شاہی نا ظر ۔۔۔۔

احمدی آرگ کے لیے یہ میرا پہلا مضمون ہے۔اگر قا رئین اور احمدی آرگ نے چاہا تو انشاءاللہ وہی سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا۔میں اپنے اس مضمون میں ان شخصیات کا تعا رف پیش کرنا چاہوں گا جو خود کو اس جماعت کے ستون قرار دیتے ہیں۔اور جماعت ان کو بزرگان دین اور ناظران کا لقب دے کر معصوم اور سادہ لوح احمدیوں کو ہمیشہ سے اس گدی نشین خلافت کی غلامی میں جکڑے رکھنے کے لیے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔ میرا ان نام نہاد بزرگان سے تعلق کئی دیہایئوں پر محیط ہے۔

میں آ غا ز کرتا ہوں ۔۔جورو کے بھائی ۔۔یعنی مرزا مسرور احمد کے سالے سے۔۔

سید محمود شاہ ۔۔۔ Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ الیاس ستار سے مباہلہ کر کے مرزا طاہر احمد صاحب چل بسے۔  مگر جماعت احمدیہ کا مباہلہ کا شوق کم نہیں پڑا۔  باتیں تو بہت بناتے ہیں مگر ناپ تول کر قدم رکھتے ہیں۔  اب دیکھیے ذرا فلسطین میں کیا واقعہ گزرا:

فلسطین میں عرب قادیانی شریف عودہ صاحب کی ایک مقامی ٹی وی چینل پر ایک مسلمان عالم سے بحث ہو گئی۔  اس عالم نے ان کی باتوں سے سٹپٹا کر کہہ دیا کہ دیکھ لیں گے۔ قادیانی مربی شمس الدین نے خوب دعا کی درخواستیں کیں اور ہر ملک میں چرچا کیا۔

اب بقول شمس الدین صاحب کے، مرزا مسرور صاحب کی ہدایت پر دو قادیانی لوگ مفتی صاحب کے دفتر پر گئے اور ان سے تحریر کروانا چاہا۔  یہ ہے بات فروری ۲۰۱۱ کی۔  ابھی ایک سال میں چار ماہ باقی تھے۔  مفتی صاحب نے کہا کہ لکھنا کچھ نہیں، مگر آپ گواہ ہیں۔ میں قائم ہوں۔

اب پھر دعاء کا سلسلہ شروع ہوا، مگر کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی، سب خاموشی سے خطوط آتے جاتے رہے، اور وہ ہم تک بھی پہنچتے رہے۔

اب اللہ کی شان دیکھیے کے شریف عودہ کی ایم ٹی اے ۳ ، جو کہ قادیانی جماعت کا عربی چینل ہے ، کی ای میل کا خزانہ ان کے قابو سے نکل گیا اور مارچ اور اپریل ۲۰۱۱ میں عربی چینل اور ان کی خط و کتابت منظر عام پر آنے سے پتہ چل گیا کہ عربی پروگرام ان کے زیادہ تر دھوکہ اور دجل پر مبنی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ لوگ عربی چینل پر وعظ کر رہے تھے کہ کسی بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا ان کے اسلام کے خلاف ہے اور یہ جو عرب بہار ہے یہ ناجائز ہے۔  اس میں بھی قدرت نے ان کو سبکی اٹھانے کا موقعہ دیا اور یہ چیختے رہ گئے مگر مطلق العنان عرب سرداروں کی پگڑیاں گرنے لگیں۔ اور کس کو ذلت کہیں گے؟

اب جون ۲۰۱۱ نکل گیا مگر کچھ نہیں ہوا۔ اور پھر مرزا صاحب خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔  کیا یہ ہوتا ہے مباہلہ؟ Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

FacebookEmailPrintShare
 

بگٹ تو جماعت احمدیہ قادیانیہ کے حواس پر ایسا چھایا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیےیہ کہہ ڈالا کہ پگٹ نے اپنا دعویٰ سے توبہ کر لی حالانکہ مرزا غلام احمد نے خود کہا تھا کہ پگٹ توبہ نہیں کرے گا، اور ان کے مرنے سے تھوڑا عرصہ پہلے ہی ریویو میں آیا کہ پگٹ نے توبہ نہیں کی اس لیے رسوائی ہوئی۔

دراصل مرزا صاحب اور ان کے باوفا مرید مفتی محمد صادق نے اپنی جماعت کو انگریزی میں چھپنے والی پگٹ کے بارے میں موت کی پیشگوئی کے بارے میں بتایا ہی نہیں تھا، اور ایک سو سال تک قادیانی اس کو بھولے رہے، اور ۲۰۰۸ میں ایک امریکی قادیانی امام نے بھی انگریزی میں لکھا کہ پگٹ نے توبہ کر لی تھی، اور یہ کتاب قادیانیوں کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اب چونکہ ہم نے انگلستان میں چھپنے والی انگریزی زبان میں موت کی پیشگوئی دریافت کی تو یہ کیا کرتے؟ اگر توبہ نہیں کی تو پھرتو پگٹ کو مرنا چاہئے تھا۔ ایک سال سوچ و بچار کے بعد قادیانیوں نے اپنے امام کا موقف بدل دیا اور اس کے الہام کو جھٹلاتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس نے توبہ کی تھی۔ جس جھوٹ کا سہارا لیا وہ یہ تھا کہ پگٹ نے پہلے خدائی کا دعویٰ کیا اور پھر اس کو کم کر کے مسیحائی کا دعویٰ کیا۔

کاش کے مرزا صاحب زندہ ہوتے اور اپنے ماننے والوں کو عیسائیوں کی تثلیث کی ابجد کے بارے میں بتاتے ۔ کہ عیسائیت میں مسیحیت کا دعویٰ دراصل الوہیت کا دعویٰ ہوتا ہے اور نعوذ باللہ خدا کے بیٹے کی آمد ہوتی ہے جو کہ تثلیث کا حصہ ہے۔ کسی دانا عیسائی مدعی مسیحیت نے کبھی خدا باپ یا روح القدس ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور اس کےعین مطابق ہے کہ جب ستمبر ۱۹۰۲ میں پگٹ نے دعویٰ کیا تو آدھے اخباروں نے مسیح کا دعویٰ بتایا اور آدھوں نے الوہیت کا۔چونکہ عیسائیوں کا مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا ظہور ہو گا اوران کے بقول وہ تثلیث الوہیت کے رکن کی حیثیت سے آئیں گے۔

(ویڈیو کے نام کے بارے میں ہماری اطلاع غلط تھی۔ معذرت۔)

FacebookEmailPrintShare
 

اے کے شیخ اور ساتھیوں کی طرف سے دستاویزی فلم کی پیشکش:

ہندی مسیح

یہ انشاءاللہ ےکم اگست ۲۰۱۱ کو جاری ہو گی، اور اس کی تیاری اور دیگر مراحل پر تقریباً ۳۰۰۰۰ پونڈ یا ۵۰۰۰۰ ڈالر خرچ آَئے گا۔

فروری سے عطیہ جات وصول کیے جائیں گے۔

FacebookEmailPrintShare
 

حصہ اول

حصہ دوم

FacebookEmailPrintShare
© 2012 احمدی آرگ اردو میں Suffusion theme by Sayontan Sinha