چودھری اکبر

 

FacebookEmailPrintShare
 

حصہ اول

حصہ دوم

FacebookEmailPrintShare
 

FacebookEmailPrintShare
 

FacebookEmailPrintShare
 

FacebookEmailPrintShare
 

یہ دونوں خبریں آج ہی موصول ہوئیں:

FacebookEmailPrintShare
 

احمدیہ گزٹ کا تازہ شمارہ پیش خدمت ہے:


Continue reading »

FacebookEmailPrintShare
 

غلطی تو معاف کی جا سکتی ہے مگر یہ بیان، جسے وہ لکھے ہوئے صفحات سے پڑھ رہے تھے، اسے کیسے درگزر کیا جائے۔ اس کا تو مطلب ہے کہ جناب مسرور صاحب تو موجودہ صدر امریکہ کو بھی کہیں گے کہ یہاں نہ آئیں، گورے آئے ہوئے ہیں۔ استغفر اللہ۔ فرماتے ہیں:

ویڈیو یہاں ملاحظہ کریں

لیکن سفید فام امریکن جو ہیں ان میں بھی تبلیغ کرنی ہے۔ اور وہ چونکہ، ان میں بڑی اکثریت ایسی ہے جسے اپنی بڑائی کا بڑا احساس ہے، تکبر اور نخوت زیادہ ہے۔ اس لیے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے، ان میں تبلیغ کرنے کے لیے جو ٹیمیں بنائیں، ان میں ہمارے ایفرو امریکن بھائی بعض جگہوں پر نہ بھی شامل ہوں تو کوئی حرج نہیں، مصلحت کے تحت۔

FacebookEmailPrintShare
 

جواب تھا : ۱۹۰۱ میں، مگر چونکہ ان کی وفات ۱۹۰۸ میں ہو گئی، اس لیے جواب دینا ہی نہیں :

نصیر قمر صاحب کے پاس جواب نہیں

سوال: مرزا صاحب جیڑے نیں، اونہاں کدوں دعوی کیتا سی؟

جواب ، نصیر قمر صاحب : ۔ ۔ ۔ ۱۸۸۲ میں پہلی دفعہ آپ کو معموریت کا الہام ہوا ہے، اور پھر آپ نے ۱۸۸۹ میں باقاعدہ جماعت کی بنیاد رکھی ہے۔ اور اللہ تعالی نے پھر جب آپ کو یہ واضح طور پر فرمایا ۔ آپ مختلف الفاظ کی تاویل فرماتے رہے، لیکن جب وضاحت کے ساتھ اللہ نے کھول کر، آپ فرماتے ہیں کہ : بارش کی طرح کثرت سے وحی کے ذریعے بتایا گیا کہ آپ نبی ہیں تو آپ نے اس نبی لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کن معنوں میں میں نبی ہوں، نبوت کا دعوی بھی فرمایا۔ تو آپ کا دعوی جو ہے ۔ ۔ ۔ ۔
[آگے بات بدل دی]
میں آپ سے عرض کروں گا ، ہمارے، بات لمبی ہو جائے گی مگر بار بار لیکن بار بار ہم ایک بات کہتے ہیں اور لوگ کہیں گے کہ شائد یہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ فرار نہیں، آپ کی بھلائی کے لیے، حضرت مرزا صاحب کی کتابیں خود پڑھئے ۔ ۔ ۔ اس لیے بہت بہتر ہے کہ ان کے اپنے الفاظ میں بات کو، ان کے دعوے کو پڑھا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ اُن کو پڑھیں پھر آپ پوچھیں تو آپ کو اللہ کے فضل سے بہت سارے سوال آپ کے ویسے ہی حل ہو جائیں گے۔

FacebookEmailPrintShare
 

قادیانی گروہ میں علمی فقدان کی کمی کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی تحقیقی ذہن ان کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا۔

اب تو یہ حالت آ پہنچی ہے کہ ایک ایسے صاحب جو کہ مرزا مسرور صاحب کے تحقیقی مشیر تھے، اور علی الاعلان ان کی جماعت کو اگست میں الوداع کہہ گئے تھے، ان کا ایک مضمون اس ہفتہ اخبار الفضل میں شائع ہوا۔ ان کے مضمون کا عنوان اور ان کے اعلانات ملاحظہ کیجیئے:

Alfazl 29th October 2010

And the announcements are here:


FacebookEmailPrintShare
© 2012 احمدی آرگ اردو میں Suffusion theme by Sayontan Sinha