Home / آپکے خطوط / حی علی الفلاح

حی علی الفلاح

راجہ نعمان احمد صاحب کی طرف سے ایک سبق آموز کہانی

اسکا ذہن عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھااسکی یہ حالت آج سے چند ماہ پہلے تک نہیں تھی وہ ایک سلجھا ہوا طالب علم تھا گھر کا ماحول بھی بہت بہتر تھااور اسکے دوست بھی اچھے تھے اسکی صلاحیتو ں کے پیش نظر اسے ناظم تبلیغ بنایا گیا اور اس دورا ن اس پر وہ حقائق کھلے جو کہ اگر اسے کتب پڑھنے کا خود سے موقع نہ ملتا تو کبھی نہ کھل پاتے ۔یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی چونکہ وہ اپنے ماںباپ اور دادا دادی سے یہی سنتا آیا تھا کہ وہ لوگ ہی سب سے اچھی تعلیم رکھتے ہیں اور وہی اپنے خدا کی پسندیدہ ترین قوم ہیں اور ان کے سوا سب کافر ہیں مگر جب اس کی طرف کی جانے والی تبلیغ کے دوران کچھ “کافروں” نے اس کی تعلیمات پر اسکی کتابوں میں سے ہی ریفرنس نکال کر دلائل بیان کیے تو وہ لاجواب ہو گیا ۔ لیکن ہر انسان کی طرح اس میں موجود تجسس اور کھوجنے کے مادے نے اسے خود سے تحقیق پر ابھارا اُس نے خود مزید کتب پڑھیں اور پھر جب اس نے اپنے گھر میں ٹی وی پر آنے والے سفید پگڑی والے بابا جی کو بھی خلاف ِکتب باتیں بیان کرتے دیکھا تو وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا ، اس نے پہلے اپنے ماں باپ سے اس بارے میں بات کی مگر انھو ں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا پھر اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستو ں سے بات کی کچھ نے اس کی باتوں کی تائید کی اور کچھ نے اسے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اس رویہ نے اسے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔

ایک دن اُسے مربی صاحب اکیلے میں بیٹھے ملے اور اُس نے ان سے یہ باتیں بیان کیں مگر انھوں نے ہر ایک بات کو اتنا گھما پھیرا کر جواب دینے کی ناکام سعی کی کہ اس نے آئندہ اُن سے بات کرنے سے توبہ کر لی ۔ اب اُس کے ذہن میں ایک کشمکش جاری تھی ایک طرف حقائق تھے اور دوسری طرف موروثی عقیدت وقت گزرتا رہا اور اُس کا ضمیر اس پر بوجھ بڑھاتا رہا، حتیٰ کہ قدرت نے اُسے اصلاح کا ایک موقع دے دیا ۔اُسے ضلعی ناظم اطفال کے طور پر منتخب کر لیا گیا تھا ۔ا ٓج اُسے قائد صاحب کی ٹیم کے ساتھ منعقدہ تقریب پر بلایا گیا تھا ۔ یہ دعوت نامہ اُسے 4 دن پہلے دیا گیا تھا ۔ یہ چار دن اُس نے بہت کرب میں گزارے تھے ۔ دل و دماغ کی جاری جنگ میں ایک طرف سچ کھڑا تھا اور دوسری طرف وہ لوگ کھڑے تھے جو اِس سے محروم تھے ۔ اُس نے سوچا، بہت سوچا اور آخر کار ایک نتیجہ پر پہنچ ہی گیا اتنے میں صبح ہو چکی تھی ،مؤذؑن کی آواز اُس کی سماعت سے ٹکرائی اللہ اکبر اللہ اکبر اشہد ان الااللہ ۔۔۔ اب وہ ہلکا پھلکا ہو چکا تھا ۔

شام کو وہ مسکراتے چہرے اور ایک نئے عزم کے تحت تقریب میں پہنچا سفید لباس میں وہ واقعی سچائی کا نمائندہ لگ رہا تھا جب اُسے نئے عہدے کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو وہ بڑے اطمینان سے وہا ں گیا اور کہا

“بطور ناظم اطفال میری ذمہ داری نسل نᆱو کو تعلیم و تربیت دینے کی ہے اور میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں جھوٹ اور منافقت کی تعلیم دے کر ان بچوں کے سامنے جھوٹا ،گنہا گار اور راہ سے بھٹکانے والا نہیں بن سکتا ۔آج یہ چھوٹے ہیں مگر کل یہ بڑے ہو نگے اور جب یہ بڑے ہو نگے تو ضرور مجھ سے پو چھیں گے کہ بھائی جان آپ نے جانتے بوجھتے ہوئے ہمیں آگ میں کیوں دکھیلا تب میں کیا جواب دونگا ؟ اگر آپ کے پاس سچائی پر مبنی کوئی جواب ہے تو میں یہ عہدہ قبول کر لیتا ہوں “۔

اُس نے دس منٹ تک انتظار کیا مگر کہیں سے بھی حیرت کی سسکیوں کے سوا کوئی آواز نہ اُبھر سکی پھر وہ انہیں چھوڑ کر باہر نکل آیا ،اسی وقت اسکی سماعت سے مؤذؑن کی آواز ٹکرائی ۔۔ حیٰ علی صلاح حیٰ الفلاح ۔

About چودھری اکبر

Check Also

نسیم مہدی کا قصہ، کہانی اور جوابات

یہ تھا وہ خط جو قادیانی احمدیہ کی کینیڈا کی شاخ کے سربراہ ملک لال …

2 comments

  1. Thanks bro a nice team work.

English Website