Home / آپکے خطوط / شاہی نا ظر

شاہی نا ظر

شاہی نا ظر ۔۔۔۔

احمدی آرگ کے لیے یہ میرا پہلا مضمون ہے۔اگر قا رئین اور احمدی آرگ نے چاہا تو انشاءاللہ وہی سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا۔میں اپنے اس مضمون میں ان شخصیات کا تعا رف پیش کرنا چاہوں گا جو خود کو اس جماعت کے ستون قرار دیتے ہیں۔اور جماعت ان کو بزرگان دین اور ناظران کا لقب دے کر معصوم اور سادہ لوح احمدیوں کو ہمیشہ سے اس گدی نشین خلافت کی غلامی میں جکڑے رکھنے کے لیے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔ میرا ان نام نہاد بزرگان سے تعلق کئی دیہایئوں پر محیط ہے۔

میں آ غا ز کرتا ہوں ۔۔جورو کے بھائی ۔۔یعنی مرزا مسرور احمد کے سالے سے۔۔

سید محمود شاہ ۔۔۔

یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کے موصوف نے گلشنِ احمد نرسری سے گوڈی کرتے کرتے ناظر اصلا ح و ارشاد مرکزیہ کا سفر کیسے طے کیا ۔۔۔راجہ منیر احمد کے دورِ صدارت میں موصوف مہتمم اطفال تھے اور نہ چاہتے ہوئے کبھی کبھار ربوہ سے باہر کسی جماعت کے اطفال کے اجتماع میں چلے جایا کرتے تھے وہ بھی اس صورت میں اگر بلانے والی جماعت انہیں ریٹرن ہوائی ٹکٹ بھیجتی یا پھر کسی دوستی یاری کو نبھانا مقصود ہوتا۔۔کرکٹ کے رسیا ہیں۔۔زیادہ وقت جامعہ احمدیہ کے گراونڈ میں کرکٹ کھیل کر ہی گزارا۔۔اور ایک سازش کے تحت صدر خدام الاحمدیہ بننے کے بعد اپنی ساری کرکٹ ٹیم کو مرکزی عاملہ کی شکل دے کر خدام الاحمدیہ کے چندے کی وہ بندر بانٹ کی کے۔۔ الاما ن۔۔ الحفیظ۔۔

پاکستان کے ایک بڑے شہر کے قائد ضلع اور محمود شاہ کے معتمدِخاص سلیم الدین کی ملی بھگت سے موصوف صدر تو بن گئے مگر خود کو صدر خدام الاحمدیہ سے زیادہ صدرِ پاکستان سمجھتے تھے۔۔اور اپنی گاڑی پہ فلیگ اسٹک اور حکومتِ پاکستان کا مخصوص مونو گرام لگا کر گھومتے تھے اور ان کے حواری یہ کہ کر لوگوں کے منہ بند کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ گاڑی ایک احمدی جسٹس صا حب نے موصوف کو تحفے میں دی ہے۔۔ (سرکاری گاڑی ۔۔اور وہ بھی تحفے میں؟۔۔کمال ہے ان جسٹس صاحب کی کرپشن کی انتہا کی بھی۔۔)

دفتر آتے جاتے ہوئے عمومی کے بدمعاش کلاشنکوفیں لیے عمومی کی گاڑیوں میں ہمراہ ہوتے۔۔جمعہ بھی مسجد اقصی کے صحن کے ایک مخصوص کونے میں ادا کرتے ہی نکل کھڑے ہوتے۔۔خدام الاحمدیہ کی ایک گاڑی اپنے سسر صاحب کے لئے مخصوص کر رکھی تھی۔۔گا ہے گاہے کبھی قائدینِ علاقہ کے نام پر اور کبھی قائدینِ اضلاع کے نام پر گلشنِ احمد نرسری میں خدام کے چندے سے پر تکلف دعوتوں کا اہتمام کرتے رہتے جس میں پوری عاملہ اپنے ندیدے پن کا مظاہرہ کھلے عام کرتی اور دور دراز سے وقت اور میسہ برباد کر کے آنے والے قائدین ان کا اور ایک دوسرے کا منہ دیکھتے جب کہان بیچاروں کو ایک ہی تلقین ہوتی کے چندہ ۔۔چندہ۔۔چندہ۔۔خدام کی جیبوں سے جتنا چندہ نکلوا سکتے ہو نکلوائو۔

خیر ۔۔موصوف نے آتے ہی تزئینِ ربوہ کے نام پر بچے بچے سے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا اور کہا یہ گیا کہ یہ چندہ ربوہ کی آرائش کے لئے استعمال ہو گا ۔مگر لاکھوں روپیہ اکٹھا ہو جانے کے با وجود محلوں کو اپنی مدد آپ کے تحت پودے،جنگلے،درخت اور کچرے کی ٹوکریاں لگانے کا حکم دیا گیا۔۔اس لاکھوں روپے کا کیا ہوا اس کا احوال پھر کبھی ۔۔

مرزا طاہر احمد کے آخری ایام میں اپنے بہنوئی یعنی مرزا مسرور کو خلیفہ بنانے کی ساری پلاننگ احمد نگر کے فارمز پر انہیں کی زیر نگرانی ہوئی،اس کام میں سلیم الدین نے اہم کردار ادا کیا،محمود شاہ کو اس بات کا علم تھا کہ مرزا مسرور کے خلیفہ بنتے ہی جماعت کے اندر پھوٹ پڑ سکتی ہے چنا نچہ اس نے انتخابِ خلافت میں شامل ہونے کے لئے لندن جانے کے بجائے ربوہ میں رہ کر حالات کو کنٹرول کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کام کے لئے خدام الاحمدیہ کی پوری مشینری استعمال کی،ا س کام میں اس کے دستِ راست سلیم الدین،ڈاکٹر سلطان مبشر،حافظ راشد جاوید اور چند مخصوص افراد تھے،مرزا مسرور کے خلیفہ بنتے ہی موصوف کی تو گویا لا ٹری نکل آئی۔۔سب سے پہلے تو انعام کے طور پر اور جما عت کی بھر پور خدمت کے سلے میں سلیم الدین کو چند دن کے لئے نائب ناظر اور پھر فوراً ہی ناظر امورِ عامہ مرکزیہ بنا دیا گیا۔اسی دوران موصوف کا دورِصدارت اختتام پزیر ہوا مگر ایک نہایت دلچسپ صورت پیدا ہو گئی۔ہو ا یوں کہ موصوف ،مسلسل ۳ دفع صدر منتخب ہو چکے تھے اور جماعتی قانون کے تحت ۴ دفع صدر بننے کے اہل نہیں تھے جبکہ موصوف کا ابھی خدام الا حمدیہ میں ایک سال باقی تھا ۔چنانچہ ہوا یوں کے شوریٰ کے موقع پر مبشر کاہلوں کی زیرِصدارت انتخاب ڈرامہ تو بھرپور انداز میں رچایا گیا مگر اگلے روز جب منتخب صدر کا اعلان ہونا تھا تو سلیم الدین ڈرامائی انداز میں ڈائس پر آیا اور کہا کہ حضور یعنی مرزا مسرور احمد نے محمود شاہ صاحب کے ہاتھ لندن سے واپسی پر اس شوریٰ کے ممبران کے لئے ایک خط بھیجا ہے جو میں پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں۔

لندن

ممبرانِ شوریٰ

السلام علیکم

امید ہے آپ سب خیریت سے ہوںگے اور خدمت ِدین میں مصروف ہوں گے۔میں مرزا مسرور احمد ،سید محمود شاہ کو مزید ایک سال کے لیے صدر خدام الاحمدیہ مقرر کرتا ہوں۔

والسلام

مرزا مسرور احمد

چنانچہ تمام جماعتی قوانین کو پسِ پشت رکھتے ہوئے موصوف کو مزید ایک سال کے لئے صدر نامزد کر دیا گیا۔

عہدِ صدارت کا سنہری دور اپنے اختتام کو پہنچتے ہی ان کی بھرپور خدمات کے عوض موصوف کو ناظر اصلا ح و ارشاد مرکزیہ ربوہ بنا دیا گیا۔۔۔ساری خدائی ایک طرف ۔۔جورو کا بھائی ایک طرف

مو صوف اب نا ظر اعلیٰ اور چھٹے خلیفہ بننے کے لئے ابھی سے پر تول رہے ہیں۔

خدام الاحمدیہ کی صدارت سے ہٹے اب ایک سال ہونے کو ہے مگر خدام الاحمدیہ کی گاڑیاں اب بھی موصوف کے اپنے اور سسرالیوں کے زیرِ استعمال ہیں۔غریب لوگوں کی خون پسینے کی کمائی اسلام کی اشاعت اور خدمتِ دین پر خرچ کرنے کے اس انداز پر تو یہ موصوف واقعی داد کے مستحق ہیں۔

دیکھیے اونٹ ابھی اور کتنی کروٹیں بدلتا ہے۔

صحیح کہا تھا مرزا امحمود نے’ میں کوانٹٹی کو نہیں کوالٹی کو دیکھتا ہوں’


About admin

Check Also

نسیم مہدی کا قصہ، کہانی اور جوابات

یہ تھا وہ خط جو قادیانی احمدیہ کی کینیڈا کی شاخ کے سربراہ ملک لال …

English Website