احمدیہ کلٹ کے غیرقرآنی عقاید اور ظالمانہ نظام کے خلاف پبلک فورمز پر سب سے پہلے اے کے شیخ نےwww.nakedahmadi.com بنا کر اُٹھائی جس پر احمدیہ کلٹ نے Hate Crime میں شکائت درج کرائی اور بفضل تعالی وہ شکائت خارج ہوئی، مگر احمدیہ کلٹ اے کے شیخ کے حوالہ سے کبھی چین سے نہ بیٹھا اور مسلسل نیچ، سفلہ اور کمینی حرکتوں سے اے کے شیخ کی کردار کُشی جاری رکھی، اور اب احمدیہ کلٹ نے کینیڈا کی خفیہ ایجنسیوں کا سہارا لیتے ہوئے اے کے شیخ کے خلاف ایک اور سلسلہ جاری کیا ہے اور اس ضمن میں کینیڈا کے ایک ادارے نے اے کے شیخ سے رابطہ کیا اور ایک گھنٹہ تک سوالات کئے۔ میں احمد کریم احمدیہ کلٹ کا مشکور ہوں جس نے آخر وہ قدم اُٹھا لیا جس اس کلٹ کی حقیقت اور اصل مکروہ چہرہ اب مغربی دُنیا کے سامنے بہت جلد آ جائے گا۔ اگر احمدیہ کلٹ یہ آخری حربہ مجھے خاموش کرانے کے لئے اُٹھا رہا ہے تو سُن لے یہ آواز میری موت کے ساتھ ختم ہوگی تم اس آواز کو خاموش نہ کرا سکو گے جو تمہارے ظالمانہ نظام کے خلاف میں نے بلند کی ہے اگر دیکھو تو یہ آواز بہت پھیل چکی ہے اور بہت سے اے کے شیخ پیدا ہو چکے ہیں جو دلیل سے، بُرہان سے احمدی حضرات کو حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ “”ڈائیلاگ ہر مسلئے کاٖ ہے”" تشدد سے معاملات بگڑتے ہیں سنورتے نہیں۔
احمدیہ کلٹ کے مطابق اب اس خطہ ارض پر اُن کا صرف ایک ہی دشمن ہے اور وہ اے کے شیخ، اسلئے کہ وہ اسی کلٹ میں پیدا ہوا اور پھر اس کے اصل چہرے سے واقف ہو کر طوق غلامی کو اُتارا اور پھر اس عہد کے ساتھ کہ عام احمدی کو بھی اس کلٹ کے ظالمانہ نظام سے رہائی دلائے گا اور اُنہیں اس کے اصل مکروہ چہرے سے رُوشناس کرائے گا۔ میری یہ مدلل اور پُرامن کوشش، تحریک اور جدو جہد جاری رہے گی۔ انشااللہ۔
تحقیق یوز آصف کے بارے میں
یوز آصف کے بارے میں تحقیق، Alberuni کے مطالعہ اور مختلف دیگر ذرائع پر مبنی ہے.
صفحہ 355: اوپر سے ہم درج ذیل نتائج پر آتے ہیں:
Alberuni کے ریمارکس سے ہم نے مندرجہ ذیل احاصل کیا:
1. یوز آسف ہند سے بہت پہلے مبلغین میں سے تھا اور ایک خالص ہندی تھا.
2. اس سے پہلے ہند کے لوگ بت پرستی کرتے تھے۔
3. اس نے ہند کے لوگوں کو ستارہ پرستی کی طرف راغب کیا اور ان کی مورتیکی عبادت سے دور کیا.
4. یوز آسف صائبی مذہب کا ایک مبلغ تھا اور Saiba صائبہ مذہب کی تبلیغ کی. جیسا کہ یزید بن ابن ابی انیسا نے ایک پیشن گوئی کی ہے کہ عجمی نژاد نبی میرے بعد ظاہر ہوں گے، وہ صائبی مزہب کی تبلیغ کرے گا اور اسکے ماننے والے بھی صابی ہونگے۔
چودهویں صدى كا مجدد
(از محمد اسلم، ادارہ کا ان آراء سے اتفاق کرنا ضروری نہیں)
تمام دنيا كے قاديانيوں كو چيلنج …
پڑھتا جا شرماتا جا!
سب جھوٹوں کا جھوٹا مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا صاحب كا ایک منہ اور دو زبانيں
مرزا غلام احمد قاديانى كا ایک اور جهوٹ
مرزا غلام احمد قاديانى نے اپنى كتاب “براهين احمدیہ حصہ 5 صفحہ 359″ پر لكها ہے (احاديث صحيحہ ميں آيا تها كہ وه مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا) ا
میں مرزا غلام احمد قادیانى كو نبى ماننے والے تمام قاديانيوں كو چيلنج كرتا ہوں كہ وه “احادیث صحيحہ” تو كیا صرف اور صرف ایک حدیث حضرت محمد صلى الله عليه وسلم كى پيش كرديں جس میں ذكر هو كہ “مسيح موعود صدى كے سر پر آئيگا اور وه چودهویں صدى كا مجدد هوگا”
…. اگر ایسی كوئى حدیث نہ ہو تو تسليم كرلو كہ مرزا نے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندها ہے ، اور حديث كے مطابق جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر جهوٹ باندهے اسكا ٹهكانہ جہنم ہے
عقیدۂ ختم نبوت سے آگاہی اورقادیانیوں کے عقائد ونظریات اورسازشوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی کتابوں سے مرزا غلام احمد قاديانى کے150جھوٹ ملاحظہ فرمائيں:
Website: www.slavesofaslave.com
قادیانیو ! کيا مرزا غلام احمد قاديانى کےيہ150جھوٹ ديکھنے کے باوجود بھی آپ اپنى زندگى میں تبدیلی نہيں لائيں گے – کیا آپ کے دلوں پر مہر لگ گئ ہے ؟ اب بھی موقعہ ہے کہ آپ توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
.. تمام قاديانيوں سے مری درخواست ہے كہ وه خود اس بات كى تحقيق كریں اور تحقيق كے بعد توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں!
اللہ تعالی قادیانیوں کو ھدایت دے! آمین-
راجہ نعمان احمد صاحب کی طرف سے ایک سبق آموز کہانی
اسکا ذہن عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھااسکی یہ حالت آج سے چند ماہ پہلے تک نہیں تھی وہ ایک سلجھا ہوا طالب علم تھا گھر کا ماحول بھی بہت بہتر تھااور اسکے دوست بھی اچھے تھے اسکی صلاحیتو ں کے پیش نظر اسے ناظم تبلیغ بنایا گیا اور اس دورا ن اس پر وہ حقائق کھلے جو کہ اگر اسے کتب پڑھنے کا خود سے موقع نہ ملتا تو کبھی نہ کھل پاتے ۔یہی اس کی پریشانی کی وجہ تھی چونکہ وہ اپنے ماںباپ اور دادا دادی سے یہی سنتا آیا تھا کہ وہ لوگ ہی سب سے اچھی تعلیم رکھتے ہیں اور وہی اپنے خدا کی پسندیدہ ترین قوم ہیں اور ان کے سوا سب کافر ہیں مگر جب اس کی طرف کی جانے والی تبلیغ کے دوران کچھ “کافروں” نے اس کی تعلیمات پر اسکی کتابوں میں سے ہی ریفرنس نکال کر دلائل بیان کیے تو وہ لاجواب ہو گیا ۔ لیکن ہر انسان کی طرح اس میں موجود تجسس اور کھوجنے کے مادے نے اسے خود سے تحقیق پر ابھارا اُس نے خود مزید کتب پڑھیں اور پھر جب اس نے اپنے گھر میں ٹی وی پر آنے والے سفید پگڑی والے بابا جی کو بھی خلاف ِکتب باتیں بیان کرتے دیکھا تو وہ شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا ، اس نے پہلے اپنے ماں باپ سے اس بارے میں بات کی مگر انھو ں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا پھر اس نے اپنے رشتہ داروں اور دوستو ں سے بات کی کچھ نے اس کی باتوں کی تائید کی اور کچھ نے اسے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اس رویہ نے اسے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔







